فهرس الكتاب

الصفحة 183 من 267

''ظاہری کلام کا تقاضا یہ ہے، کہ تمام مخلوق کی جانب اشارہ ہو۔'' [1]

[اس طرح جملے کا ترجمہ یوں ہوگا:

[وہ جانتے ہیں، جو کچھ تمام مخلوق کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے۔]

۳: ضمیر [ہُمْ] فرشتوں کی طرف پلٹتی ہے۔ امام مقاتل نے بیان کیا: [ہُمْ] سے مراد فرشتے ہیں۔ [2]

اس طرح ترجمہ یوں ہوگا:

[وہ جانتے ہیں، جو کچھ، کہ فرشتوں کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے۔]

د:[مَا بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ]اور[وَمَا خَلْفَہُمْ]کی تفسیر میں آٹھ اقوال:

اس حوالے سے حضراتِ مفسرین کے بیان کردہ اقوال میں سے آٹھ درجِ ذیل ہیں:

۱: {مَا بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ} سے مراد ان سے پہلے دنیا کے معاملات اور {وَ مَا خَلْفَہُمْ} سے مقصود ان کے بعد آخرت کا معاملہ۔ [3]

۲: {مَا بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ} سے مراد آخرت ہے، کیونکہ وہ ان کے آگے ہے اور وہ اس کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں اور {وَ مَا خَلْفَہُمْ} سے مقصود دنیا ہے، کیونکہ وہ اسے اپنے پیچھے چھوڑ رہے ہیں۔ [4]

[2] بحوالہ: المرجع السابق ۱/۳۰۳۔

[3] یہ حضراتِ ائمہ عطاء، مجاہد اور سدی کا قول ہے۔ (ملاحظہ ہو: تفسیر البغوي ۱/۲۳۹؛ وزاد المسیر ۱/۳۰۳؛ وتفسیر القرطبي ۳/۲۷۶؛ وتفسیر البیضاوي ۱/۱۳۴) ۔

[4] یہ امام ضحاک اور امام کلبی کی رائے ہے۔ (ملاحظہ ہو: التفسیر الکبیر ۷/۱۰۔۱۱) ۔ نیز دیکھئے: تفسیر البغوي ۱/۲۳۹؛ وزاد المسیر ۱/۳۰۳؛ وتفسیر البیضاوي ۱/۱۳۴)۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت