فهرس الكتاب

الصفحة 85 من 267

[''یعنی کافروں کی طرح اس (یعنی دوزخ کی آگ) میں ہمیشہ رہنا۔'']

مراد یہ ہے ، کہ وہ کافروں کی طرح جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا۔ واللہ تعالیٰ أعلم۔

ن: اخلاص سے کہنے والے کا شفاعتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم

سے سب سے زیادہ فیض یاب ہونا

دلیل:

امام بخاری نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ بلاشبہ انہوں نے بیان کیا:

''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

''أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِيْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَنْ قَالَ:

[لَآ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ ] ۔

خَالِصًا مِنْ قِبَلِ نَفْسِہٖ۔'' [1]

[''روزِ قیامت میری شفاعت سے سب سے زیادہ فیض یاب وہ ہو گا، جس نے سچے دل سے

[لَآ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ ]

کہا۔'']

ایک دوسری روایت میں ہے:

'' وَشَفَاعَتِيْ لِمَنْ شَہِدَ أَنْ:

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت