دلیل:
ایمان کی ساٹھ یا ستر سے کچھ اوپر شاخوں میں سے سب سے بلند و بالا شاخ اسی جملے میں بیان کردہ [عقیدۂ توحید] ہے۔ امام مسلم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رویت نقل کی ہے، (کہ) انہوں نے بیان کیا: ''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
''اَلْإِیمَانُ بِضْعٌ وَّسَبْعُونَ شُعْبَۃً أَوْ بِضْعٌ وَّ سِتُّوْنَ شُعْبَۃً [1]
فَأَفْضَلُہَا قَوْلُ: [ لَآ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ] ، وَأَدْنَاہَآ إِمَاطَۃُ الْأَذٰی عَنِ الطَّرِیقِ ، وَالْحَیَآئُ شُعْبَۃٌ مِّنْ الْإِیمَانِ۔'' [2]
['' ایمان کی ساٹھ سے کچھ اوپر یا ستر سے کچھ اوپر شاخیں ہیں۔ ان میں سے سب سے بڑی فضیلت والی (شاخ) [ لَآ إِلَہَ إِلَّا اللّٰہُ] ہے۔ اور سب سے کم رتبے والی [راستے سے اذیت کو ہٹانا] ہے اور [حیا] ایمان کی (ایک) شاخ ہے۔ '']
شرحِ حدیث:
علامہ نووی لکھتے ہیں:
[2] صحیح مسلم، کتاب الإیمان، باب بیان عدد شعب الإیمان ، و أفضلہا و أدناہا … ، رقم الحدیث ۵۸ ۔ (۳۵) ، ۱؍ ۶۳۔