'' [اَلْعَظِیْمُ] الَّذِيْ کُلُّ شَيْئٍ أَمَامَ عَظْمَتِہِ صَغِیْرٌ حَقِیْرٌ۔'' [1]
'' [اَلْعَظِیْمُ] وہ ذات، کہ ان کی عظمت کے سامنے، ہر چیز چھوٹی اور معمولی ہے۔''
[اَلْعَلِيُّ الْعَظِیْمُ] کی تفسیر میں حضراتِ مفسرین کے مذکورہ بالا سب اقوال ہی عمدہ ہیں۔
تنبیہ:
حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں:
''وَہٰذِہٖ الْآیَاتُ وَمَا فِيْ مَعْنَاہَا مِنَ الْأَحَادِیْثِ الصِّحَاحِ، الْأَجْوَدُ فِیْہَا طَرِیْقَۃُ السَّلَفِ الصَّالِح:
[أَمِرُّوْہَا کَمَا جَآئَ تْ مِنْ غَیْرِتَکْیِیِْفٍ وَّلَا تَشْبِیْہِ] ۔'' [2]
''ان آیات اور اسی معنیٰ کی صحیح احادیث کے حوالے سے بہترین طریقہ سلف صالحین کا ہے۔ (اور وہ یہ ہے:[قرآن و سنّت میں) جیسے ان کا ذکر آیا ہے، انہیں ویسے ہی، کیفیت (بیان کیے) بغیر اور تشبیہ دیے بغیر، رہنے دیا جائے۔''
و: اسمِ مبارک [الْعَظِیْمُ] پر مشتمل دیگر آیات میں سے تین:
۱: ارشادِ باری تعالیٰ:
{فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ} [3]
[2] تفسیر ابن کثیر ۱/۳۳۳۔
[3] سورۃ الواقعۃ / الآیۃ ۷۴۔