فهرس الكتاب

الصفحة 246 من 267

'' [اَلْعَظِیْمُ] الَّذِيْ کُلُّ شَيْئٍ أَمَامَ عَظْمَتِہِ صَغِیْرٌ حَقِیْرٌ۔'' [1]

'' [اَلْعَظِیْمُ] وہ ذات، کہ ان کی عظمت کے سامنے، ہر چیز چھوٹی اور معمولی ہے۔''

[اَلْعَلِيُّ الْعَظِیْمُ] کی تفسیر میں حضراتِ مفسرین کے مذکورہ بالا سب اقوال ہی عمدہ ہیں۔

تنبیہ:

اسماء و صفت والی نصوص کو کیفیت و تشبیہ بیان کیے بغیر رہنے دینا:

حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں:

''وَہٰذِہٖ الْآیَاتُ وَمَا فِيْ مَعْنَاہَا مِنَ الْأَحَادِیْثِ الصِّحَاحِ، الْأَجْوَدُ فِیْہَا طَرِیْقَۃُ السَّلَفِ الصَّالِح:

[أَمِرُّوْہَا کَمَا جَآئَ تْ مِنْ غَیْرِتَکْیِیِْفٍ وَّلَا تَشْبِیْہِ] ۔'' [2]

''ان آیات اور اسی معنیٰ کی صحیح احادیث کے حوالے سے بہترین طریقہ سلف صالحین کا ہے۔ (اور وہ یہ ہے:[قرآن و سنّت میں) جیسے ان کا ذکر آیا ہے، انہیں ویسے ہی، کیفیت (بیان کیے) بغیر اور تشبیہ دیے بغیر، رہنے دیا جائے۔''

و: اسمِ مبارک [الْعَظِیْمُ] پر مشتمل دیگر آیات میں سے تین:

۱: ارشادِ باری تعالیٰ:

{فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ} [3]

[2] تفسیر ابن کثیر ۱/۳۳۳۔

[3] سورۃ الواقعۃ / الآیۃ ۷۴۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت