فهرس الكتاب

الصفحة 245 من 267

۲: امام طبری لکھتے ہیں:

'' [اَلْعَظِیْمُ] ذُوْ الْعَظْمَۃِ الَّذِيْ کُلُّ شَيْئٍ دُوْنَہٗ، فَلَا شَيْئَ أَعْظَمُ مِنْہُ۔'' [1]

'' [اَلْعَظِیْمُ] وہ عظمت والے، کہ ہر چیز ان سے فروتر ہے اور کوئی چیز (بھی) ان سے زیادہ عظمت والی نہیں۔''

۳: امام بغوی نے تحریر کیا ہے:

'' [اَلْعَظِیْمُ] الْکَبِیْرُ الَّذِيْ لَا شَيْئَ أَعْظَمُ مِنْہُ۔'' [2]

'' [اَلْعَظِیْمُ] بہت بڑی وہ ذات، کہ کوئی چیز ان سے زیادہ عظمت والی نہیں۔''

۴: قاضی بیضاوی رقم طراز ہیں:

'' [اَلْعَظِیْمُ] : اَلْمُسْتَحْقَرُ، بِالْإِضَافَۃِ إِلَیْہِ، کُلُّ مَا سِوَاہُ۔'' [3]

'' [اَلْعَظِیْمُ] (وہ کہ) ان کے مقابلے میں ہر چیز حقیر ہے۔''

۵: حافظ ابن کثیر نے لکھا ہے:

'' [وَہُوَ الْعَظِیْمُ] کَقَوْلِہٖ [اَلْکَبِیْرُ الْمُتَعَالِ[4] ]'' [5]

'' [وَہُوَ الْعَظِیْمُ] ارشادِ تعالیٰ [اَلْکَبِیْرُ الْمُتَعَالُ] [بہت بڑے سب سے عالی شان] کی مانند ہے۔''

۶: شیخ ابوبکر الجزائری نے قلم بند کیا ہے:

[2] تفسیر البغوي ۱/۲۴۰۔

[3] تفسیر البیضاوي ۱/۱۳۴۔

[4] سورۃ الرعد / جزء من الآیۃ ۹۔

[5] تفسیر ابن کثیر ۱/۳۳۳۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت