فهرس الكتاب

الصفحة 114 من 267

[الٓمّٓ۔ اللہ تعالیٰ، ان کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ہمیشہ سے زندہ اور تمام کائنات کی تدبیر کرنے والے ہیں۔]

۲: {وَ عَنَتِ الْوُجُوْہُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِ} [1]

[اور چہرے جھک گئے، ہمیشہ زندہ رہنے والے، کائنات کی ہر چیز کو قائم رکھنے والے (اللہ کریم) کے لیے۔]

۳: {وَتَوَکَّلْ عَلَی الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَمُوتُ} [2]

[اور آپ ہمیشہ زندہ رہنے والے پر بھروسہ کیجیے، جو کہ فوت نہیں ہوں گے۔]

۴: {ہُوَ الْحَیُّ لَآ اِِلٰـہَ اِِلَّا ہُوَ فَادْعُوْہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ} [3]

[وہ ہی ہمیشہ زندہ رہنے والے ہیں، ان کے علاوہ کوئی معبود نہیں، سو تم عبادت کو ان ہی کے لیے خالص کرکے انہیں پکارو۔]

ج: اسمِ مبارک[اَلْحَيُّ]کی شان و عظمت:

تین علمائے امت کے اقوال:

۱: شیخ الإسلام ابن تیمیہ کی رائے میں اسم مبارک [اَلْحَيُّ] تمام صفات کمال کو لازم کردیتا ہے [4] اور یہی [اسم اعظم] [5] ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

[فَا لْحَيُّ] نَفْسُہٗ مُسْتَلْزِمٌ لِجَمِیْعِ الصِّفَاتِ ، وَہُوَ أَصْلُہَا، وَلِہٰذَا کَانَ أَعْظَمُ آیَۃٍ فِي الْقُرآنِ اَللّٰہُ لَآ إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ

[2] سورۃ الفرقان / جزء من الآیۃ ۵۸۔

[3] سورۃ المؤمن / جزء من الآیۃ ۶۵۔

[4] یعنی یہ اسمِ گرامی دیگر تمام کمالات والی صفات کا تقاضا کرتا ہے۔ اس طرح اللّٰه کریم کے لیے یہ مبارک نام بولنے سے، ان کا تمام بلند و بالا صفات والے، ہونا ثابت ہوجاتا ہے۔ وَاللّٰه تَعَالیٰ أَعْلَمْ۔

[5] یعنی اللّٰه تعالیٰ کا عظیم ترین نامِ مبارک۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت