فهرس الكتاب

الصفحة 231 من 267

{وَ ہُوَ الْعَلِیُّ الَعَظِیْمُ} کی تفسیر

ا: [اَلْعَلِيُّ] سے مراد

ب: اللہ تعالیٰ کے ہر چیز سے اوپر ہونے کے متعلق تین علماء کے بیانات

ج: اللہ تعالیٰ کے ہر چیز سے اوپر ہونے کے سات دلائل

د: اسمِ مبارک [اَلْعَلِيُّ] پر مشتمل دیگرآیات میں سے تین

ہ: [اَلْعَظِیْمُ] سے مراد

و: اسمِ مبارک [اَلْعَظِیْمُ] پر مشتمل دیگر آیات میں سے تین

ز: [اَلْعَلِيُّ الْعَظِیْمُ] دونوں ناموں پر مشتمل ایک اور آیت شریفہ

ح: جملے میں حصر اور اس کا فائدہ

ط: جملے کا ماقبل سے تعلق

ا: [اَلْعَلِيُّ] سے مراد:

چھ علماء کے اقوال:

۱: امام بغوی رقم طراز ہیں:

''وَہُوَ [الْعَلِيُّ] الرَّفِیْعُ فَوْقَ خَلْقِہٖ وَالْمُتَعَالِيْ عَنِ الْأَشْیَآئِ وَالْأَنْدَادِ۔ وَقِیْلَ: ''اَلْعَلِيُّ بِالْمُلْکِ وَالسَّلْطَنَۃِ۔'' [1]

'' [وَہُوَ الْعَلِيُّ] اپنی مخلوق سے بہت بلند اور سب چیزوں اور شرکاء [2]

[2] لوگوں کے گمان میں [شرکاء] ، لیکن حقیقت میں ان کا کوئی بھی شریک نہ ہے اور نہ ہی ہوسکتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت