فهرس الكتاب

الصفحة 148 من 267

''ملکیت، تخلیق اور بندگی کے اعتبار سے (سب کچھ ان ہی کے لیے تو ہے) ۔''

۶: شیخ ابوبکر جزائری لکھتے ہیں:

''خَلْقًا وَّمِلْکًا وَّتَصَرُّفًا۔'' [1]

''تخلیق، ملکیت اور انتظام و انصرام کے اعتبار سے (سب کچھ ان ہی کے لیے ہے) ۔''

ب: خبر[لَہُ]کے تقدیم کی حکمت:

یہ جملہ اسمیہ ہے اور اس میں [مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ] مبتدا اور [لَہٗ] اس کی خبر ہے۔ عام قاعدے کے مطابق مبتدا کو پہلے اور خبر کو بعد میں آنا چاہیے، لیکن اس جملے میں خبر پہلے آئی ہے۔

جملے میں تقدیم و تاخیر [حصر] کا فائدہ دیتا ہے، جس کی بنا پر اس جملے میں دو معانی ہیں:

پہلا معنٰی: آسمانوں اور زمین میں موجود ہر چیز کا اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہونا۔

دوسرا معنٰی: آسمانوں اور زمین میں موجود تمام چیزوں کا اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی ملکیت نہ ہونا۔

ج: اسم موصول [مَا] اور اس کے تکرار کی فائدہ:

مَا فِیْ السَّمٰوٰت) میں اسم موصول [مَا] ذکر کیا گیا ہے، تاکہ وہ آسمانوں میں موجود ہر چیز کو اپنے اندر سمیٹ لے، کیونکہ [مَا] عموم کے صیغوں میں سے ہے۔ اور یہی بات (وَمَا فِیْ الْاَرْضِ) میں ہے۔ اس بارے میں علامہ ابوحیان اندلسی لکھتے ہیں:

''وَمَا تَشْمَلُ کُلَّ مَوْجَوْدٍ۔'' [2]

[2] البحر المحیط ۱/۲۸۸۔ نیز دیکھئے: تفسیر آیۃ الکرسي ص ۱۱۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت