فهرس الكتاب

الصفحة 147 من 267

وَخَالِقُ جَمِیْعِہٖ دُوْنَ کُلِّ آلِہَۃٍ وَمَعْبُوْدٍ۔''1 [1]

''اللہ تعالیٰ کا اپنے ارشادِ (گرامی) {لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ} سے مقصود یہ ہے، کہ وہ ان تمام (چیزوں) کے کسی شریک اور مدِّمقابل کے بغیر مالک اور دیگر تمام معبودانِ (باطلہ) کے بغیر خالق ہیں۔''

۲: امام بغوی نے تحریر کیا ہے:

''مِلْکًا وَّخَلْقًا۔'' [2]

''ملکیت اور تخلیق کے اعتبار سے (جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے، انہی کے لیے ہے) ۔''

۳: قاضی ابن عطیہ نے قلم بند کیا ہے:

''أَيْ بِالْمُلْکِ، فَہُوَ مَالِکُ الْجَمِیْعِ وَرَبِّہٖ۔'' [3]

''یعنی ملکیت کے ساتھ، لہٰذا وہ تمام (چیزوں) کے مالک اور رب ہیں۔''

۴: حافظ ابن کثیر نے لکھا ہے:

''إِخْبَارٌ بِأَنَّ الْجَمِیْعَ عَبِیْدُہٗ ، وَفِيْ مِلْکِہٖ، وَتَحْتَ قَہْرِہٖ وَسُلْطَانِہٖ۔'' [4]

'' (اس بات کی) خبر دی گئی ہے، کہ سب ان کے غلام، ان کے زیرِ ملکیت اور ان کے قہر و سلطان کے تحت ہیں۔''

۵: علامہ جلال الدین المحلّی نے بیان کیا ہے:

''مِلْکًا وَّخَلْقًا وَّعَبِیْدًا۔'' [5]

[2] تفسیر البغوي ۱/۲۳۹۔

[3] المحرّر الوجیز ۲/۲۷۶۔ نیز ملاحظہ ہو: تفسیر القرطبي ۳/۲۷۳۔

[4] تفسیر ابن کثیر ۱/۳۳۱۔

[5] تفسیر الجلالین ص ۵۶۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت