وَخَالِقُ جَمِیْعِہٖ دُوْنَ کُلِّ آلِہَۃٍ وَمَعْبُوْدٍ۔''1 [1]
''اللہ تعالیٰ کا اپنے ارشادِ (گرامی) {لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ} سے مقصود یہ ہے، کہ وہ ان تمام (چیزوں) کے کسی شریک اور مدِّمقابل کے بغیر مالک اور دیگر تمام معبودانِ (باطلہ) کے بغیر خالق ہیں۔''
۲: امام بغوی نے تحریر کیا ہے:
''مِلْکًا وَّخَلْقًا۔'' [2]
''ملکیت اور تخلیق کے اعتبار سے (جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے، انہی کے لیے ہے) ۔''
۳: قاضی ابن عطیہ نے قلم بند کیا ہے:
''أَيْ بِالْمُلْکِ، فَہُوَ مَالِکُ الْجَمِیْعِ وَرَبِّہٖ۔'' [3]
''یعنی ملکیت کے ساتھ، لہٰذا وہ تمام (چیزوں) کے مالک اور رب ہیں۔''
۴: حافظ ابن کثیر نے لکھا ہے:
''إِخْبَارٌ بِأَنَّ الْجَمِیْعَ عَبِیْدُہٗ ، وَفِيْ مِلْکِہٖ، وَتَحْتَ قَہْرِہٖ وَسُلْطَانِہٖ۔'' [4]
'' (اس بات کی) خبر دی گئی ہے، کہ سب ان کے غلام، ان کے زیرِ ملکیت اور ان کے قہر و سلطان کے تحت ہیں۔''
۵: علامہ جلال الدین المحلّی نے بیان کیا ہے:
''مِلْکًا وَّخَلْقًا وَّعَبِیْدًا۔'' [5]
[2] تفسیر البغوي ۱/۲۳۹۔
[3] المحرّر الوجیز ۲/۲۷۶۔ نیز ملاحظہ ہو: تفسیر القرطبي ۳/۲۷۳۔
[4] تفسیر ابن کثیر ۱/۳۳۱۔
[5] تفسیر الجلالین ص ۵۶۔