فهرس الكتاب

الصفحة 84 من 267

شرحِ حدیث:

حافظ ابن حجر نے فوائد حدیث بیان کرتے ہوئے تحریر کیا ہے:

'' وَأَنَّہٗ لَا یُخْلَدُ فِيْ النَّارِ مَنْ مَّاتَ عَلَی التَّوْحِیْدِ۔'' [1]

[اور بلاشبہ توحید پر فوت ہونے والا (دوزخ کی) آگ میں دائمی طور پر نہیں رہے گا۔'']

ب: امام مسلم نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، (کہ) انہوں نے بیان کیا: ''میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

''مَنْ شَہِدَ أَنْ: [لَآ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا ۔ صلي اللّٰه عليه وسلم ۔ رَّسُوْلُ اللّٰہِ] ،

حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ النَّارَ۔'' [2]

[''جس شخص نے گواہی دی، کہ

[اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بلاشبہ محمد۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں،]

اللہ تعالیٰ نے اُس پر (دوزخ کی) آگ حرام کر دی۔'']

شرحِ حدیث:

اس پر [آگ کے حرام ہونے سے] مراد یہ ہے… جیسا کہ علامہ مبارک پوری نے لکھا ہے…:

'' أيِ الْخُلُوْدُ فِیْہَا کَالْکُفَّارِ۔'' [3]

[2] صحیح مسلم،کتاب الإیمان، باب الدلیل علٰی أنّ من مات علی التوحید دخل الجنۃ قطعًا ، جزء من رقم الحدیث ۴۷۔ (۲۹) ، ۱؍۵۸۔

[3] تحفۃ الأحوذي ۷؍۳۲۸۔ حضراتِ محدثین نے اس حدیث کی شرح میں متعدد اور باتیں بھی ذکر فرمائی ہیں۔ (ملاحظہ ہو: فتح الملہم ۱؍۵۸۴) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت