فهرس الكتاب

الصفحة 155 من 267

علاوہ کسی کی (اپنے آقا کی نافرمانی کرتے ہوئے) اطاعت کرے۔''

۲: شیخ ابن عاشور نے تحریر کیا ہے:

'' {لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ} تَقْرِیْرٌ لِّانْفِرَادِہٖ بِالْإِلٰہِیَّۃِ ، إِذْ جَمِیْعُ الْمَوْجُوْدَاتِ مَخْلُوْقَاتُہٗ۔'' [1]

'' [لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ] ان کے بحیثیت معبود یکتا اور منفرد ہونے کی تاکید ہے، کیونکہ تمام موجود چیزیں تو ان کی مخلوق ہیں۔''

و: جملے کے دیگر پانچ فوائد:

اللہ تعالیٰ کے الوہیت و عبودیت کے تنہا مستحق ہونے پر دلالت کرنے کے علاوہ اس جملے کے دیگر فوائد بھی ہیں۔ انہی میں سے پانچ درجِ ذیل ہیں:

۱: بندے کا اپنے پاس موجود چیزوں کا حقیقی مالک نہ ہونا:

ہر چیز کے حقیقی مالک صرف اللہ عزوجل ہیں۔ کچھ چیزیں اور مال ، آزمائش و امتحان کے لیے بندے کے ہاتھ میں دیا جاتا ہے۔ قرآن و سنت کی متعدد نصوص اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں۔ انہی میں سے تین ذیل میں ملاحظہ فرمائیے:

ا: اللہ تعالیٰ نے آزادی حاصل کرنے کے خواہاں غلاموں سے تعاون کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

{وَّآتُوْہُمْ مِّنْ مَّالِ اللّٰہِ الَّذِیْٓ آتَاکُمْ} [2]

[اور اللہ تعالیٰ کے مال سے ، جو انہوں نے تمہیں دیا ہے، انہیں دو۔]

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے پاس موجود مال کو [مَالُ اللّٰہِ] [اللہ تعالیٰ کا مال] کا نام دیا۔

[2] سورۃ النور/ جزء من رقم الآیۃ ۳۳۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت