فهرس الكتاب

الصفحة 238 من 267

فِيْ کِتَابِہٖ فِيْ آیَاتٍ کَثِیْرَۃٍ، حَتّٰی قَالَ بَعْضُ أَکَابِرِ أَصْحَابِ الشَّافِعِيِّ: ''فِيْ الْقُرْآنِ أَلْفُ دَلِیْلٍ أَوْ أَزْیَدُ تَدُلُّ عَلٰی أَنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی عَالٍ عَلَی الْخَلْقِ، وَ أَنَّہٗ فَوْقَ عِبَادِہٖ۔'' [1]

''بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب اور اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ (مبارک) سے اپنے بارے میں [بالا ہونے، عرش پر بلند ہونے اور اُوپر ہونے کا] وصف بیان کیا ہے۔ (انہوں نے یہ بات) اپنی کتاب (مجید) کی بہت زیادہ آیات میں (بیان فرمائی ہے) ، یہاں تک کہ امام شافعی کے بعض اکابر شاگردوں نے کہا:

''قرآن (کریم) میں [اللہ تعالیٰ کے مخلوق سے بالا اور اپنے بندوں سے اُوپر ہونے] کے ایک ہزار یا اس سے زیادہ دلائل ہیں۔''

۴: اسی بارے میں امام ابن قیم لکھتے ہیں:

''وَالظَّاھِرُ الْعَالِيْ الَّذِيْ مَا فَوْقَہٗ

شَيْئٌ کَمَا قَدْ قَالَ ذُوْالْبُرْھَانِ'' [2]

[''اور (اَلظَّاھِرُ) ایسے بلند، کہ ان کے اُوپر کوئی چیز نہیں، جیسا کہ ذوالبرہان (یعنی دلیل والے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے بیان فرمایا۔

ج: اللہ تعالیٰ کے ہر چیز سے اوپر ہونے کے سات دلائل:

کتاب و سنّت میں اس کے متعلق بہت کثرت سے دلائل موجود ہیں۔ سابقہ صفحات میں علمائے امت کے بیانات کے ضمن میں ذکر کردہ دلائل کے ساتھ ذیل میں

[2] القصیدۃ النونیۃ، رقم البیت ۱۲۶۰، ۲/ ۱۷۰۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت