فهرس الكتاب

الصفحة 30 من 267

''بلاشک و شبہ اللہ عزوجل کا اسمِ اعظم قرآن کریم کی تین سورتوں میں ہے: سورۃ البقرۃ، آل عمران اور طٰہٰ میں۔''

(راوی نے بیان کیا) [1] : میں نے اسے تلاش کیا، تو سورۃ البقرہ کی آیت الکرسی [کے جملے] {اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ} ،

سورۃ آل عمران [کی آیت] {الٓمَّٓ اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ}

اور سورۃ طہٰ [کی آیت] {وَ عَنَتِ الْوُجُوْہُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِ} میں پایا۔''

شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی رائے :

ان کی رائے میں اللہ تعالیٰ کا اسمِ اعظم [الْحَيّ] ہے، اور اسی بنا پر قرآن کریم کی عظیم ترین آیت: {اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ} ہے۔ [2]

امام ابن قیم کا بیان:

ان کی رائے میں اسم اعظم [اَلْحَيُّ الْقَیُّوْمُ] ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

اِسْمُ الإِلٰہِ الْأَعْظَمُ اشْتَمَلَا عَلَی اسْ

لمِ الْحَیِّ الْقَیُّوْمِ مُقْتَرِنَانِ

فَالْکُلُّ مَرْجِعُہَا إِلَی الْاِسْمَیْنِ یَدْ

رِيْ ذَاکَ ذُوْ بَصَرٍ بِہٰذَا الشَّأْنِ۔'' [3]

[الإلہ (یعنی اللہ تعالیٰ ) کا اسم اعظم دو باہمی ملے ہوئے (مبارک) ناموں [اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ] پر مشتمل ہے۔

تمام اسمائے (مبارکہ) انہی دو (مبارک) ناموں کی طرف لوٹتے ہیں۔

[2] ملاحظہ ہو: مجموع الفتاویٰ ۱۸/۳۱۱۔

[3] القصیدۃ النونیۃ، رقمي البیتین ۵۴۳، ۵۴۴، ۱؍۳۳۹۔ نیز ملاحظہ ہو: شرح الشیخ العثیمین ۱؍۳۴۰؛ و تعلیق الشیخ محمد خلیل ہرّاس ۱؍۳۳۹۔۳۴۰۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت