فهرس الكتاب

الصفحة 192 من 267

بِہٖ، وَمِنْہُ۔'' [1]

''کسی چیز کا علم کے اعتبار سے احاطہ یہ ہے، کہ اس کے وجود، جنس، کیفیت، غرض و غایت، اس کی ایجاد، اور وہ کس چیز کے ساتھ اور کس سے ہوئی، (ان سب باتوں) کے بارے میں علم ہو۔''

۲: [مِّنْ عِلْمِہٖٓ] :

مفسرین نے [علم] کے دو معانی بیان کیے ہیں:

ا: یہاں [علم] سے مراد معلوم ہے۔ [2]

ب: علم سے مقصود اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا علم ہے۔ [3]

ب: جملے کے معانی:

[علم] کے مذکورہ بالا دونوں معانی کے اعتبار سے جملے کے بھی درجِ ذیل دو معانی ہیں:

[2] ملاحظہ ہو: المحرّر الوجیز ۲/۲۷۷؛ وزاد المسیر ۱/۳۰۴؛ والتفسیر الکبیر ۷/۱۱؛ وتفسیر القرطبي ۳/۲۷۶؛ وکتاب التسہیل ۱/۱۵۹؛ وتفسیر البیضاوي ۱/۱۳۴؛ وتفسیر الجلالین ص ۵۶؛ وتفسیر أبي السعود ۱/۲۴۸؛ وفتح القدیر ۱/۴۱۱۔

[3] ملاحظہ ہو: تفسیر ابن کثیر ۱/۳۳۲؛ وتفسیر آیۃ الکرسي ص ۱۷۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت