فهرس الكتاب

الصفحة 225 من 267

{وَ لَا یَؤُدُہٗ حِفْظُہُمَا} کی تفسیر

ا: جملے کے معانی

ب: آسمانوں اور زمین میں موجود چیزوں کے عدم ذکر کی حکمت

ج: جملے کا ماقبل سے تعلق

د: جملے کا فائدہ

ا: جملے کے معانی:

چار علماء کے اقتباسات:

۱: {وَ لَا یَؤُدُہٗ} کی تفسیر میں امام بغوی رقم طراز ہیں:

''وَ لَا یُثْقِلُہُ وَلَا یَشُقُّ عَلَیْہِ۔'' [1]

''اورنہ ان پر بوجھل ہے اور نہ ان پر گراں۔''

۲: حافظ ابن جوزی نے قلم بند کیا ہے:

''کہا جاتا ہے: '' آدَہُ الشَّيْئُ وَیَؤُوْدُہُ أَوْدًا إِیَادًا '' وَالْأَوْدُ: گراں ہونا۔ یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما ، قتادہ اور (علماء کی) ایک جماعت کا قول ہے۔'' [2]

۳: {حِفْظُہُمَا} کے متعلق امام بغوی لکھتے ہیں:

[2] زاد المسیر ۱/۳۰۴۔ یہی امام حسن بصری کا قول ہے۔ (ملاحظہ ہو: تفسیر القرآن للصنعاني ۱/۱۰۲؛ وتفسیر الطبري ۵/۴۰۳) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت