فهرس الكتاب
الْقَیُّوْمُ ، وَہُوَ الْاِسْمُ الْأَعْظَمُ ، لِأَنَّہٗ مَا مِنْ حَيٍّ إِلَّا وَہُوَ شَاعِرُ مُرِیْدٌ ، فَاْستَلْزَمَ جَمِیْعَ الصِّفَاتِ۔ فَلَوِ اکْتَفٰی فِيْ الصِّفَاتِ بِالتَّلَازُمِ لَاکْتَفٰی بِ [الْحَيِّ] ۔ [1]
[اَلْحَيُّ] بجائے خود ،تمام صفات کو لازم کرتا ہے، اسی لیے قرآن کریم کی عظیم ترین آیت: اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْم۲: شیخ سعدی نے تحریر کیا ہے:
'' وَأَنَّہٗ [اَلْحَيُّ] الَّذِيْ لَہٗ جَمِیْعُ مَعَانِيْ الْحَیَاۃِ الْکَامِلَۃِ مِنَ السَّمْعِ ، وَالْبَصَرِ ، وَالْقُدْرَۃِ، وَالْإِرَادَۃِ، وَ غَیْرِہَا ، وَالصِّفَاتِ الذَّاتِیَّۃِ۔'' [2]
'' [اَلْحَيُّ] وہ ذات (بلند و بالا) ہیں، جن میں کامل زندگی کے تمام معانی: دیکھنا، سننا، قدرت، ارادہ وغیرہ اور صفات ذاتیہ [3] ہیں۔''
۳: شیخ محمد بن صالح عثیمین رقم طراز ہیں:
''ہٰذَانِ اسْمَانِ مِنْ أَسْمَآئِہٖ تَعَالٰی: وَہُمَا جَامِعَانِ لِکَمَالِ الْأَوْصَافِ وَالْأَفْعَالِ۔
[2] تیسیر الکریم الرحمٰن ۱؍۳۱۳۔ (ط: مرکز الصالح بن صالح الثقافي) ۔
[3] یعنی وہ صفات، جو انہیں کسی اور نے نہیں دی۔