فهرس الكتاب

الصفحة 135 من 267

الْحُسْنٰی کُلِّہَا، وَإِلَیْہَا تَرْجِعُ مَعَانِیْہَا۔'' [1]

''تمام اسمائے حسنیٰ کا مدار ان دو ناموں [اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ] پر ہے اور ان (سب) کے معانی ان دونوں ہی کی طرف پلٹتے ہیں۔''

قاضی رحمہ اللہ مزید لکھتے ہیں:

''وَأَمَّا [الْقَیُّوْمُ] فَہُوَ مُتَضَمِّنٌ کَمَالَ غِنَاہُ، وَکَمَالَ قُدْرَتِہٖ، فَإِنَّہُ الْقَوِیْمُ بِنَفْسِہٖ، فَـلَا یَحْتَاجُ إِلٰی غَیْرِہٖ بِوَجْہِ مِنَ الْوُجُوْہِ۔ اَلْمُقِیْمُ لِغَیْرِہٖ، فَـلَا قِیَامَ لِغَیْرِہٖٓ إِلَّا بِإِقَامَتِہٖ، فَانْتَظَمَ ہٰذَانِ الْاِسْمَانِ صِفَاتِ الْکَمَالِ أَتَمَّ انْتِظَامٍ۔'' [2]

'' [الْقَیُّوْمُ] (اسمِ مبارک) وہ اپنے اندر کمالِ غنی اور کمالِ قدرت سموئے ہوئے ہے، سو وہ بلاشبہ اپنی وجہ سے قائم ہیں، وہ اپنے علاوہ کسی کے بھی، کسی بھی اعتبار سے، محتاج نہیں ہیں۔ اپنے سوا سب کو قائم کرنے والے ہیں۔ ان کے علاوہ کسی کا بھی ان کے بغیر قیام نہیں۔ اس طرح ان دونوں ناموں نے اپنے اندر صفاتِ کمال کو بہترین انداز میں سمو رکھا ہے۔'']

۲: شیخ عبد الرحمن سعدی نے قلم بند کیا ہے:

''إِنَّ [الْقَیُّوْمُ] تَدْخُلُ فِیْہِ جَمِیْعُ صِفَاتِ الْأَفْعَالِ، لِأَنَّہٗ الْقَیُّوْمُ الَّذِيْ قَامَ بِنَفْسِہٖ، وَاسْتَغْنٰی عَنْ جَمِیْعِ مَخْلُوْقَاتِہٖ، وَقَامَ بِجَمِیْعِ مَوْجُوْدَاتٍ، فَأَوْجَدَہَا وَأَبْقَاہَا، وَأَمَدَّہَا بِجَمِیْعِ مَا تَحْتَاجُ إِلَیْہِ فِيْ وَجُوْدِہَا وَبَقَآئِہَا۔'' [3]

[2] المرجع السابق ص ۷۸۔

[3] ملاحظہ ہو: تیسیر الکریم الرحمٰن ۱؍ ۲۰۲۔ (ط: جدہ) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت