فهرس الكتاب

الصفحة 179 من 267

ان کی اجازت کے بغیر شفاعت کرنے کی خاطر آگے بڑھے۔''

۲: اللہ تعالیٰ کی اجازت سے شفاعت کا ثبوت:

علامہ ابوحیان رقم طراز ہیں:

''وَ دَلَّتِ الْآیَۃُ عَلٰی وُجُوْدِ الشَّفَاعَۃِ بِإِذْنِہٖ تَعَالٰی۔ وَ الْإِذْنُ ہُنَا مَعْنَاہُ: الْأَمْرُ۔'' [1]

'' (یہ) آیت (شریفہ) اللہ تعالیٰ کے اذن سے شفاعت کے ہونے پر دلالت کرتی ہے اور [الإذن] کا یہاں معنیٰ: حکم ہے۔''

کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [اِلَّا بِاِذْنِہٖ] [مگر اُن کے اذن کے ساتھ] ۔ اور اگر شفاعت ثابت نہ ہوتی، تو اللہ تعالیٰ کے اذن کے ساتھ اُس کے ہونے کا استثناء نہ کیا جاتا۔ [2]

۳: شفاعت کے لیے اذنِ الٰہی کا ثبوت:

اللہ تعالیٰ کی جانب سے شفاعت کی خاطر اجازت کا حاصل ہونا ثابت ہے۔ وَاللّٰہُ تَعَالٰی أَعْلَمُ۔

[2] ملاحظہ ہو: تفسیر آیۃ الکرسي ص۳۱۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت