فهرس الكتاب

الصفحة 218 من 267

وَالْمُلْکُ۔

اَلْقَوْلُ الثَّالِثُ: أَنَّ [الْکُرْسِيَّ] ہُوَ الْعِلْمُ۔

اَلْقَوْلُ الرَّابِعُ: أَنَّ الْمَقْصُوْدَ مِنْ ہٰذَا الْکَلَامِ تَصْوِیْرُ عَظْمَۃِ اللّٰہِ وَ کِبْرِیَآئِہٖ۔ [1]

اول: وہ بہت بڑا جسم ہے، (جو) آسمانوں اور زمین کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔

دوسرا قول: [الکرسی] سے مراد حکمرانی، قدرت اور بادشاہت ہے۔

تیسرا قول: بلاشبہ [الکرسی] علم ہے۔

چوتھا قول: اس کلام سے مقصود اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی کی تصویر کشی ہے۔

پھر علامہ رحمہ اللہ تحریر کرتے ہیں:

إِنَّ الْمُعْتَمَدَ ہُوَ الْأَوَّلُ لِأَنَّ تَرْکَ الظَّاہِرِ بِغَیْرِ دَلِیْلٍ لَا یَجُوْزُ۔ وَاللّٰہُ تَعَالٰی أَعْلَمُ۔ [2]

بلاشبہ قابلِ اعتماد پہلا (قول) ہی ہے، کیونکہ دلیل کے بغیر ظاہری معنیٰ کو ترک کرنا جائز نہیں۔ وَاللّٰہُ تَعَالٰی أَعْلَمُ۔

علامہ شوکانی رقم طراز ہیں:

اَلْکُرْسِيُّ الظَّاہِرُ أَنَّہٗ الْجِسْمُ الَّذِيْ وَرَدَتِ الْآثَارُ۔ وَقَدْ نَفٰی وَجُوْدَہٗ جَمَاعَۃٌ مِّنَ الْمُعْتَزِلَۃِ، وَأَخْطَؤُوْا فِيْ ذٰلِکَ خَطَأً

[2] ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۷/۱۳۔ نیز ملاحظہ ہو: تفسیر القرطبي ۳/۲۷۸؛ وکتاب التسہیل ۱/۱۵۹۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت