فهرس الكتاب

الصفحة 229 من 267

الْکَمَالِ، وَ لَیْسَ ہُوَ نَفْیًا مَحْضًا، لِأَنَّ النَّفْيَ الْمَحْضَ لَیْسَ فِیْہِ مَدْحٌ، لِأَنَّہٗ عَدَمٌ مَحْضٌ، وَ الْعَدَمُ لَیْسَ بِشَيْئٍ۔

وَ مِنْ أَمْثَلَۃِ النَّفْيِ الْمُتَضَمِّنِ لِإِثْبَاتِ الْکَمَالِ:

قَوْلُہٗ تَعَالٰی: (وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّکَ أَحَدًا) [1]

أيْ لِکَمَالِ عَدْلِہٖ سُبْحَانَہٗ،

وَ قَوْلُہٗ: (وَ لَا یَؤٗدُہٗ حِفْظُہُمَا) 2 [2]

أَيْ: لِکَمَالِ قُدْرَتِہٖ وَ قُوَّتِہٖ،

وَ قَوْلُہٗ: (لَا تَأْخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّ لَا نَوْمٌ) [3]

أَيْ: لِکَمَالِ حَیَاتِہٖ وَ قَیُّوْمِیَّتِہٖ۔

وَ ہٰکَذَا کُلُّ نَفْيٍ عَنِ اللّٰہِ، فَإِنَّہٗ یَتَضَمَّنُ إِثْبَاتَ ضَدِّ الْمَنْفِيِّ مِنَ الْکَمَالِ وَ الْجَلَالِ۔'' [4]

[''صفاتِ الٰہیہ کے بارے میں ہر نفی میں ضمنًا کمال کا ثابت کرنا ہوتا ہے۔ خالی نفی (مقصود) نہیں ہوتی، کیونکہ محض نفی، مدح نہیں ہوتی، کیونکہ وہ تو صرف معدوم (یعنی نہ ہونا) ہے اور معدوم ہونا تو کوئی چیز نہیں۔

نفی کے ضمن میں ثبوتِ کمال کی مثالوں میں سے:

ارشادِ تعالی: (ترجمہ: اور آپ کے رب کسی ایک پر ظلم نہیں کرتے) ۔

یعنی: (اللہ) سبحانہ اپنے کمالِ عدل کی بنا پر (ظلم نہیں کرتے) ،

اور ارشادِ تعالیٰ (ترجمہ: اور ان دونوں کی حفاظت اُن پر گراں نہیں)

[2] سورۃ البقرۃ/ جزء من الآیۃ ۲۵۵۔

[3] سورۃ البقرۃ/ جزء من الآیۃ ۲۵۵۔

[4] ''الإرشاد إلی صحیح الاعتقاد و الرد علی أہل الشرک و الإلحاد'' ص ۲۰۵۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت