فهرس الكتاب

الصفحة 233 من 267

وَ ہُوَ الْعَلِيُّ فَکُلُّ أَنْوَاعِ الْعُلُوْ

وِلَہٗ فَثَابِتَۃٌ بِلَا نُکْرَانِ [1]

[ترجمہ: وہ ہی [اَلْعَلِيُّ] ہیں، پس بلندی کی تمام اقسام انہی کے لیے بلا انکار ثابت ہیں]۔

حضرت امام رحمہ اللہ ایک دوسرے مقام پر تحریر کرتے ہیں:

وَلَہٗ الْعُلُوُّ مِنَ الْوُجُوْہِ جَمِیْعِہَا

ذَاتًا وَقَھْرًا مَعَ عُلُوِّ الشَّانِ [2]

''ان ہی کے لیے ذات، غلبہ اور اونچے مقام و مرتبہ کے، تمام اعتبارات سے بلندی ہے۔''

۴: شیخ سعدی رقم طراز ہیں:

(وَ ہُوَ الْعَلِيُّ) بِذَاتِہٖ فَوْقَ عَرْشِہٖ؛ (اَلْعَلِيُّ) بِقَہْرِہٖ لِجَمِیْعِ الْمَخْلُوْقَاتِ، (اَلْعَلِيُّ) بِقَدْرِہٖ لِکَمَالِ صِفَاتِہٖ۔'' [3]

[وہ اپنی ذات کے ساتھ عرش کے اوپر بلند وبالا ہیں، (وہ) اپنے غلبے کے ساتھ ساری مخلوقات پر بالا دست ہیں، (وہ) اپنی صفات کے کمال کی بنا پر مقام و مرتبہ میں بلند ترین ہیں۔]

۵: شیخ ابوبکر جزائری نے تحریر کیا ہے:

''اَلْعَلِيُّ الَّذِيْ لَیْسَ فَوْقَہٗ شَيْئٌ، وَّ الْقَاہِرُ الَّذِيْ لَا یَغْلِبُہٗ شَيْئٌ۔'' [4]

[2] المرجع السابق، رقم البیت ۱۱۲۷، ۲/ ۱۱۹، نیز ملاحظہ ہو: رقم البیت ۱۱۵۲، ۱۱۵۷، ۲/ ۱۲۹)۔

[3] تیسیر الرحمٰن ص ۱۱۰۔ (ط: موسسۃ الرسالۃ) ۔

[4] أیسر التفاسیر ۱/۲۰۳۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت