فهرس الكتاب
الصفحة 254 من 267
انہی کی عبادت کی جائے۔
اس سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے، کہ جو کچھ ہمارے پاس ہے، وہ ہماری ملکیت نہیں، بلکہ اللہ عزوجل کی ملکیت ہے۔ ہمیں ان چیزوں میں آزمائش اور امتحان کی خاطر نیابت دی گئی ہے۔ ہم ان کے استعمال میں احکامِ الٰہیہ کے پابند ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان میں جو، جیسے اور جب چاہیں کریں، ہماری ذمہ داری یہ ہے، کہ جو عطا فرمائیں، اس پر شکر کریں، جو لے لیں، اس پر صبر کریں۔
اللہ تعالیٰ کے کائنات کا کامل اور محیط علم رکھنے میں یکتا اور تنہا ہونے میں بھی اس بات کی دلیل ہے، کہ وہ ہر قسم کی الوہیت و عبودیت کے منفرد حق دار ہیں۔
حجم الخط: