فهرس الكتاب

الصفحة 67 من 267

خاطر سر توڑ جدو جہد کی، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں آخرت سے پہلے ، دنیا ہی میں سرفراز و سربلند کر دیا۔ دنیوی سیادت و قیادت ان کے قدموں میں ڈھیر کر دی۔ اسی حوالے سے ذیل میں اختصار سے پیش کردہ چند حقائق ملاحظہ فرمایئے:

دورِ صدیقی رضی اللہ عنہ (۱۱ھ… ۱۳ ھ) میں مزید دو لاکھ مربع میل توحیدی ریاست کا حصہ بنے۔ عصر فاروقی رضی اللہ عنہ (۱۳ھ … ۲۵ ھ) میں نئے پندرہ لاکھ مربع میل پر عَلمِ توحید لہرایا۔ ذوالنورین رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت ( ۲۶ھ… ۳۵ھ) میں آٹھ لاکھ مربع میل پر مشتمل علاقے اسلامی سلطنت میں شامل ہوئے۔ اس طرح توفیقِ الٰہی اور پھر عقیدۂ توحید کی برکت سے پینتس سال کے عرصے میں سلطنتِ توحید کی حکمرانی اور سیادت و قیادت پینتیس لاکھ مربع میل کے وسیع و عریض علاقے پر محیط ہو گئی۔ [1]

ii: دولت ِتوحید کے پڑوس میں موجود ایرانیوں کے پچیس بادشاہ ( اکاسرہ [2] ) یکے بعد دیگرے پانچ صدیوں سے سر زمینِ فارس کے علاوہ عراقِ عربی اور عراقِ عجمی پر حکمرانی کر رہے تھے۔ [3] عصرِ صدیقی میں توحید کے علمبرداروں نے دعوت و جہاد کے لیے ان کی طرف رُخ کیا۔معرکہ حیرہ ۱۲ھ میں اللہ تعالیٰ نے اُن سرفروشوں کو سرفراز و سر بلند فرمایا اور عراقِ عربی پر عَلمِ توحید لہرانے کا آغاز ہوا۔

[2] ایرانی بادشاہ کا لقب [کسری] ہوتا تھا اور اس کی جمع [اکاسرہ] ۔

[3] ملاحظہ ہو: تاریخ الإسلام (عہد الخلفاء الراشدین رضی اللّٰه عنہم ) ص ۱۶۰۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت