فهرس الكتاب

الصفحة 69 من 267

زیرِ اقتدار شا می علاقے کو کھو بیٹھے۔ [1]

اگلے سال رمضان ۹۳ھ میں لشکرِ توحید موسیٰ بن نُصَیر کی سر کردگی میں فرانس کے میدانوں میں پہنچ گیا۔ [3]

vi: مشرق میں لشکرِ توحید نے محمد بن قاسم کی زیرِ امارت ۹۳ھ میں سندھ کی بندرگاہ دیبل [4] اور ۹۵ھ میں ملتان کو سلطنتِ توحید میں شامل کیا۔ [5]

قتیبہ بن مسلم کی سپۂ سالاری میں ۹۴ھ میں جیشِ توحید نے کابل پر توحید کے پرچم کو لہرایا۔

تنبیہ:

دو غیر مسلم مفکرین کے بیانات:

فرانسیسی مؤرخ Grousset نے سر زمینِ ایران و عراق میں لشکرِ توحید کی فتح قادسیہ تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے ، کہ مسلمانوں کے پاس (اس فتح کے پانے کے لیے) ایمان کے سوا کوئی ہتھیار نہ تھا۔ [6]

توحیدِ الٰہی کا کھرا، سچا، ٹھوس ، مضبوط اور غیر متزلزل عقیدہ آج بھی اُمت ِاسلامیہ کا

[2] ملاحظہ ہو: تاریخ خلیفہ بن خیاط ، ص ۳۰۴۔

[3] ملاحظہ ہو: المرجع السابق ، ص ۳۰۴۔

[4] ملاحظہ ہو: المرجع السابق ، ص ۳۰۴۔

[5] ملاحظہ ہو: المرجع السابق ، ص ۳۰۷۔

[6] بحوالہ کتاب: ''الإسلام فی آسیا الوسطٰی'' للدکتور حسن أحمد محمود ص ۲۶۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت