فهرس الكتاب

الصفحة 1018 من 7481

کتاب: نماز کے احکام ومسائل

ظہر اور عصر میں قراءت

1018 وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ لِسَعْدٍ قَدْ شَكَوْكَ فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى فِي الصَّلَاةِ. قَالَ: «أَمَّا أَنَا فَأَمُدُّ فِي الْأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ. وَمَا آلُو مَا اقْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» فَقَالَ: ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ، أَوْ ذَاكَ ظَنِّي بِكَ،

شعبہ نے ابوعون سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت جابر بن سمرہ﷜ سے سنا کہ حضرت عمر﷜ نے حضرت سعد﷜ سے کہا: لوگوں نے آپ کی ہر چیز حتیٰ کہ نماز کی بھی شکایت کی ہے۔ حضرت سعد﷜ نے کہا: میں (یہ کہتا ہوں کہ میں) پہلی دو رکعتوں میں (قیام کو) طول دیتا ہوں اور آخری دو رکعتوں میں تخفیف کرتا ہوں، میں نے جس طرح رسول اللہﷺ کی اقتدا میں نماز پڑھی تھی، اس میں کوئی کوتاہی نہیں کرتا۔ تو عمر﷜ نے کہا: آپ کے بارے میں یہی گمان ہے یا آپ کے بارے میں میرا گمان یہی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت