فهرس الكتاب

الصفحة 1363 من 7481

کتاب: مسجدیں اور نماز کی جگہیں

نماز کے لیے وقار اور سکون کے ساتھ آنا مستحب ہے اور دوڑ کر آنا ممنوع ہے

1363 حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعَ جَلَبَةً، فَقَالَ: «مَا شَأْنُكُمْ؟» قَالُوا: اسْتَعْجَلْنَا إِلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: «فَلَا تَفْعَلُوا، إِذَا أَتَيْتُمُ الصَّلَاةَ فَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا سَبَقَكُمْ فَأَتِمُّوا» .

معاویہ بن سلام نے یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کی کہا: عبداللہ بن ابی قتادہ ﷜ نے مجھے خبر دی کہ ان کے والد نے انھیں بتایا ، کہا: ہم (ایک بار ) جب رسو ل اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے تو آپ نے (جلدی چلنے،دوڑ کر پہنچنے کی ) ملی جلی آواز یں سنیں ، آپ نے (نماز کے بعد ) پوچھا: ''تمھیں کیا ہوا (تھا ؟) '' لوگوں نے جواب دیا ہم نے نماز کے لے جلید کی ۔ آپ نے فرمایا:''ایسے نہ کیا کرو ،جب تم نماز کے لیے آؤ تو سکون و اطمینان محلوظ رکھو ، (نماز کاحصہ ) جو تمھیں مل جائے ، پڑھ لو ارو جو گز ر جائے اسے پورا کر لو ۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت