فهرس الكتاب

الصفحة 143 من 7481

کتاب: ایمان کا بیان

اس بات کی دلیل کہ جو شخص توحید پر فوت ہوا ، وہ لازمًا جنت میں داخل ہو گا

143 حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ إِلَّا مُؤْخِرَةُ الرَّحْلِ، فَقَالَ: «يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ» ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللهِ، وَسَعْدَيْكَ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: «يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ» قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللهِ وَسَعْدَيْكَ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: «يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ» قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللهِ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: «هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللهِ عَلَى الْعِبَادِ؟» قَالَ: قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «فَإِنَّ حَقُّ اللهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ، وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا» ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: «يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ» قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللهِ، وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: «هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ؟» قَالَ: قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ»

سیدنا انس بن مالک ﷜ نے حضرت معاذ بن جبل ﷜ سے یہ حدیث روایت کی ، کہا: میں (سواری کے ایک جانور پر ) رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سوار تھا ، میرے اور آپ کے درمیان کجاوے کے پچھلے حصے کی لکڑی (جتنی جگہ) کے سوا کچھ نہ تھا ، چنانچہ ( اس موقع پر ) آپﷺ نے فرمایا: ''اے معاذ بن جبل!'' میں نے عرض کی: میں حاضر ہوں اللہ کے رسول !ز ہے نصیب۔ (اس کے بعد) آپ پھر گھڑی بھرچلتے رہے ، اس کے بعد فرمایا: '' اے معاذ بن جبل !'' میں نے عرض کی: میں حاضر ہوں ، اللہ کے رسول ! زہے نصیب ۔ آپ نے فرمایا:'' کیاجانتے ہو کہ بندوں پر ا للہ عز وجل کا کیا حق ہے ؟ '' کہا: میں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ آگاہ ہیں ۔ ارشاد فرمایا:'' بندوں پر اللہ عزوجل کا حق یہ ہے کہ اس کی بندگی کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرین ۔ '' پھر کچھ دیر چلنے کے بعد فرمایا: '' اے معاذ بن جبل !'' میں عرض کی: میں حاضر ہوں اللہ کے رسول ! ز ہے نصیب ۔ آپ نے فرمایا: ''کیا آپ جانتے ہو کہ جب بندے اللہ کاحق ادا کریں تو پھر ا للہ پر ان کا حق کیا ہے ؟ '' میں نے عرض کی ، اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جاننے والے ہیں ۔ آپ نے فرمایا: '' یہ کہ وہ انہیں عذاب نہ دے۔ ''

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت