فهرس الكتاب

الصفحة 144 من 7481

کتاب: ایمان کا بیان

اس بات کی دلیل کہ جو شخص توحید پر فوت ہوا ، وہ لازمًا جنت میں داخل ہو گا

144 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ، يُقَالُ لَهُ: عُفَيْرٌ، قَالَ: فَقَالَ: «يَا مُعَاذُ، تَدْرِي مَا حَقُّ اللهِ عَلَى الْعِبَادِ؟ وَمَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللهِ؟» قَالَ: قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «فَإِنَّ حَقَّ اللهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوا اللهَ، وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَحَقَّ الْعِبَادِ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يُعَذِّبَ مَنْ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا» ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَفَلَا أُبَشِّرُ النَّاسَ، قَالَ: «لَا تُبَشِّرْهُمْ فَيَتَّكِلُوا»

عمرو بن میمون نے حضرت معاذ ﷜ سے روایت کی ، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک گدھے پر سوار تھا جسے عفیر کہا جاتا تھا ۔ آپ نے فرمایا: ''اے معاذ ! جانتے ہو ، بندوں پر اللہ کاکیا حق ہے اور اللہ پربندوں کا کیا حق ہے ؟ '' میں نے عرض کی: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جاننے والے ہیں ۔ آپ نے فرمایا: '' بندوں پر اللہ کاحق یہ ہے کہ وہ اس کی بندگی کریں ، اس کے ساتھ کسی کوشریک نہ ٹھہرائیں اور اللہ پر بندوں کا حق یہ ہے کہ جو بندہ اس کے ساتھ ( کسی چیزکو) شریک نہ ٹھہرائے ، اللہ اس کو عذاب نہ دے ۔ '' کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! کیا میں لوگوں کو خوش خبری نہ سناؤں ؟ آپ نے فرمایا:'' ان کو خوش خبری نہ سناؤ وورنہ وہ اسی پر بھروسہ کر لیں گے ۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت