فهرس الكتاب

الصفحة 1430 من 7481

کتاب: مسجدیں اور نماز کی جگہیں

ان کی دلیل جو کہتے ہیں الصلاۃ الوسطیٰ(درمیان کی نماز)عصر کی نماز ہے

1430 وَحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ، قَالَ أَبُو غَسَّانَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَوْمَ الْخَنْدَقِ جَعَلَ يَسُبُّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ ‍، وَاللهِ مَا كِدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ الْعَصْرَ حَتَّى كَادَتْ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَوَاللهِ إِنْ صَلَّيْتُهَا، فَنَزَلْنَا إِلَى بُطْحَانَ، فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَوَضَّأْنَا، فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا الْمَغْرِبَ»

معاذ بن ہشام نے حدیث بیان کی ، کہا:ہمیں میرے والد نے یحییٰ بن ابی کثیر سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا: ہمیں ابو سلمہ بن عبدالرحمن نےحضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہوئے حدیث بیان کی کہ خندق کے روز حضرت عمر بن خطاب ﷜ کفار قریش کو برا بھلا کہنے لگے اور عرض کی: اے اللہ کےرسول ! اللہ کی قسم ! میں عصر کی نماز نہیں پڑھ سکا تھا یہاں تک کہ سورج غروب ہونے کو آگیا ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' اللہ کی قسم ! میں نے (بھی ) نہیں پڑھی ۔'' پھر ہم (وادی) بطحان میں اترے ، رسول اللہ ﷺ نے وضول کیا اور ہم نے بھی وضو کیا ، پھر رسول اللہ ﷺ نے سورج کے غروب ہو جانے کے بعد عصرکی نماز پڑھی ، پھر اس کے بعد مغرب کی نماز ادا کی ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت