فهرس الكتاب

الصفحة 207 من 7481

کتاب: ایمان کا بیان

گناہوں کے ارتکاب کی وجہ سے ایمان میں کمی کا بیان اور یہ کہ گناہوں میں ملوث ہونےوالے سے ایمان کی نفی کا مطلب ، کمال ایمان کی نفی ہے

207 حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَفَعَهُ قَالَ: «لَا يَزْنِي الزَّانِي» ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ شُعْبَةَ'كُلُّ هَؤُلَاءِ بِمِثْلِ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، غَيْرَ أَنَّ الْعَلَاءَ، وَصَفْوَانَ بْنَ سُلَيْمٍ، لَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا: «يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبْصَارَهُمْ» ، وَفِي حَدِيثِ هَمَّامٍ: «يَرْفَعُ إِلَيْهِ الْمُؤْمِنُونَ أَعْيُنَهُمْ فِيهَا وَهُوَ حِينَ يَنْتَهِبُهَا مُؤْمِنٌ» وَزَادَ: «وَلَا يَغُلُّ أَحَدُكُمْ حِينَ يَغُلُّ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، فَإِيَّاكُمْ إِيَّاكُمْ»

معمر نے ہمام بن منبہ سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ﷜ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی ، ان سب (صفوان ، علاء اور معمر ) کی روایات (205۔ 207) امام زہری کی روایت (204) کے مانند ہیں ، البتہ علاء اور صفوان کی بیان کردہ حدیث روایت ( 205،206) میں '' جس کی طرف سے لوگ نظر اٹھاتے ہیں '' کے ا لفاظ موجود نہیں ۔ اور ہمام کی روایت کے الفاظ اس طرح ہیں:''مومن لوگ ( اس چیز کی قدر و قیمت کی بنا پر ) اس کی طرف سے اپنی نظریں اٹھاتے ہیں اور وہ (لوٹتے وقت ) مومن نہیں ہوتا ۔ '' اور معمر نے یہ اضافہ بھی کیا ہے: اور تم میں سے کوئی خیانت نہیں کرتا کہ جب خیانت کررہا ہو تو وہ مومن ہو ، لہٰذا تم ( ان تمام کاموں سے ) بچو ، تم بچو

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت