فهرس الكتاب

الصفحة 2724 من 7481

کتاب: روزے کے احکام و مسائل

رمضان کے علاوہ (دوسرے مہینوں میں ) نبی اکرم ﷺ کے روزے 'یہ مستحب ہے کہ کوئی مہینہ روزوں سے خالی نہ رہے

2724 حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ:"مَا صَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا كَامِلًا قَطُّ، غَيْرَ رَمَضَانَ، وَكَانَ يَصُومُ إِذَا صَامَ، حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ: لَا، وَاللهِ، لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ، إِذَا أَفْطَرَ، حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ: لَا، وَاللهِ، لَا يَصُومُ"

ابو عوانہ نے ابو بشر سے ،انھوں نے سعید بن جبیر سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی،کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے سوا کبھی پورا مہینہ روزے نہیں رکھے۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے تو اتنے روزے رکھتے کہ کہنے والا کہتا:نہیں،اللہ کی قسم!آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے ترک نہیں کریں گے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے چھوڑتے تو (مسلسل) چھوڑتے حتیٰ کہ کہنے والا کہتا:نہیں،اللہ کی قسم!آپ روزے نہیں رکھیں گے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت