قربانی کو رمی سے 'اور بال منڈوانے کو قربانی اور رمی (دونوں ) سے مقدم کرنا اور ان سب سے پہلے طواف افاضہ کرنا جائز ہے
3160 وحَدَّثَنَاه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ح وحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَمَّا رِوَايَةُ ابْنِ بَكْرٍ فَكَرِوَايَةِ عِيسَى، إِلَّا قَوْلَهُ: لِهَؤُلَاءِ الثَّلَاثِ، فَإِنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ ذَلِكَ، وَأَمَّا يَحْيَى الْأُمَوِيُّ فَفِي رِوَايَتِهِ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ، نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ وَأَشْبَاهُ ذَلِكَ
محمد بن بکر اور سعید بن یحییٰ اموی نے اپنے والد ( یحییٰ اموی) کے واسطے سے ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی ،ابن بکر کی روایت عیسیٰ کی گزشتہ روایت کی طرح ہے سوائے ان کے اس قول کے"ان تین چیزوں کے بارے میں"اور ہے یحییٰ اموی تو ان کی روایت میں ہے میں نے قر بانی کرنے سے پہلے سر منڈوالیا میں نے رمی کرنے سے پہلے قر با نی کر لی اور اسی سے ملتی جلتی باتیں