قربانی کو رمی سے 'اور بال منڈوانے کو قربانی اور رمی (دونوں ) سے مقدم کرنا اور ان سب سے پہلے طواف افاضہ کرنا جائز ہے
3161 وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، قَالَ: «فَاذْبَحْ وَلَا حَرَجَ» قَالَ: ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ: «ارْمِ وَلَا حَرَجَ»
ہمیں (سفیان) بن عیینہ نے زہری سے حدیث بیان کی انھوں نے عیسیٰ بن طلحہ سے اور انھوں نے عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا: کو ئی آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: میں نے قر با نی کر نے سے پہلے سر منڈوالیا ہے آپ نے فر ما یا (اب) قربانی کرلو رمی کر لو کو ئی حرج نہیں ۔ (کسی اور نے ) کہا: میں رمی سے پہلے قر با نی کر لی ہے تو آپ نے فر ما یا:" (اب ) رمی کر لو کوئی حرج نہیں ۔"