ایسا زائد پانی بیچنا حرام ہے جو بیابان میں ہو اور گھاس چرانے کے لیے اس کی ضرورت ہو'اسے استعمال کرنے سے روکنا (بھی) حرام ہے 'اور نرکی جفتی کی اجرت لینا حرام ہے
4008 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلَأُ»
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"زائد پانی کو نہ روکا جائے کہ اس کے ذریعے سے گھاس روکی جائے۔"