ایسا زائد پانی بیچنا حرام ہے جو بیابان میں ہو اور گھاس چرانے کے لیے اس کی ضرورت ہو'اسے استعمال کرنے سے روکنا (بھی) حرام ہے 'اور نرکی جفتی کی اجرت لینا حرام ہے
4009 وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَمْنَعُوا فَضْلَ الْمَاءِ لِتَمْنَعُوا بِهِ الْكَلَأَ»
ابن شہاب سے روایت ہے، کہا: مجھے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"زائد پانی نہ روکو کہ اس کے ذریعے سے تم گھاس روک دو۔"