فهرس الكتاب

الصفحة 4320 من 7481

کتاب: قسموں کا بیان

غلام جب اپنے آقا کی خیر خواہی کرے اور اچھےے طریقے سے اللہ کی بندگی کرے تو اس کا اجرو ثواب

4320 حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِلْعَبْدِ الْمَمْلُوكِ الْمُصْلِحِ أَجْرَانِ» ، وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ، لَوْلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَالْحَجُّ، وَبِرُّ أُمِّي، لَأَحْبَبْتُ أَنْ أَمُوتَ وَأَنَا مَمْلُوكٌ"، قَالَ: وَبَلَغَنَا أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ لَمْ يَكُنْ يَحُجُّ حَتَّى مَاتَتْ أُمُّهُ لِصُحْبَتِهَا، قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ فِي حَدِيثِهِ: «لِلْعَبْدِ الْمُصْلِحِ» ، وَلَمْ يَذْكُرْ «الْمَمْلُوكَ"

ابوطاہر اور حرملہ بن یحییٰ نے ہمیں حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں ابن وہب نے خبر دی، کہا: مجھے یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے سعید بن مسیب سے سنا، وہ کہہ رہے تھے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اچھی طرح ذمہ داریاں نبھانے والے کسی کے مملوک (غلام) کے لیے دو اجر ہیں۔"اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابوہریرہ کی جان ہے! اگر اللہ کی راہ میں جہاد، حج اور اپنی والدہ کی خدمت (جیسے کام) نہ ہوتے تو میں پسند کرتا کہ میں مروں تو غلام ہوں۔

(سعید بن مسیب نے) کہا: ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی والدہ کی وفات تک ان کے ساتھ رہنے (اور خدمت کرنے) کی بنا پر حج نہیں کرتے تھے۔

ابوطاہر نے اپنی حدیث میں"اچھی طرح ذمہ داریاں نبھانے والا"عَبد" (غلام) کہا،"مملوک"نہیں کہا"

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت