آپﷺ کاقول ہے:'' وہ نو ہے ، میں اسے کہاں سے دیکھوں !'' ایک اور قول ہے:'' میں نے نور دیکھا''
437 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ، قَالَ الْأَشَجُّ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحُصَيْنِ أَبِي جَهْمَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: {مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى} [النجم: 11] {وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى} [النجم: 13] ، قَالَ: «رَآهُ بِفُؤَادِهِ مَرَّتَيْنِ» ،
وکیع نے کہا: ہمیں اعمش نے زیاد بن حصین ابو جہمہ سے حدیث سنائی ، انہوں نے ابو عالیہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ، انہوں نے آیت: {مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَی} ''جھوٹ نہ دیکھا دل نے جو دیکھا'' اور {وَلَقَدْ رَآہُ نَزْلَۃً أُخْرَی} ''اور آپ نے اسے ایک بار اترتے ہوئے دیکھا '' ( کےبارے میں ) کہا: رسول ا للہ ﷺ نے اسے (رب تعالیٰ کو) اپنے دل دو بار دیکھا۔