جنگ سےقبل امام (سالار کا) فوج سے بیعت لینا مستحب ہے 'اور درخت کے نیچے بیعت رضوان کا بیان
4824 وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: أَتَاهُ آتٍ، فَقَالَ: هَا ذَاكَ ابْنُ حَنْظَلَةَ يُبَايِعُ النَّاسَ، فَقَالَ: عَلَى مَاذَا؟ قَالَ: عَلَى الْمَوْتِ، قَالَ: «لَا أُبَايِعُ عَلَى هَذَا أَحَدًا بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
عباد بن تمیم نے حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ان کے پاس کوئی شخص آیا اور کہنے لگا: ابن حنظلہ لوگوں سے بیعت لے رہے ہیں؟ پوچھا: کس چیز پر؟ کہا: موت پر۔ کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص کے ساتھ اس بات پر بیعت نہیں کروں گا۔