فهرس الكتاب

الصفحة 6867 من 7481

کتاب: ذکر الٰہی'دعا 'توبہ اور استغفار

ذکر میں آواز دھیمی رکھنا مستحب ہے، سوائے ان مقامات کے جہاں شریعت میں اس کے لیے آواز بلند کرنے کا حکم وارد ہوا ہے، مثلا: تلبیہ(حج)وغیرہ اور"لا حول ولا قوۃ الا باللہ"کثرت سے کہنا مستحب ہے

6867 و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ وَالَّذِي تَدْعُونَهُ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ عُنُقِ رَاحِلَةِ أَحَدِكُمْ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِ ذِكْرُ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ

خالد حذاء نے ابوعثمان سے اور انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم ایک غزوے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، پھر اس حدیث کو بیان کیا اور اس میں کہا: (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ) "تم جس کو پکار رہے ہو وہ تم میں سے کسی کی اونٹنی کی گردن کی نسبت بھی اس کے زیادہ قریب ہے۔"اور ان (خالد حذاء) کی حدیث میں"لا حول ولا قوۃ الا باللہ"کا ذکر نہیں ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت