فهرس الكتاب

الصفحة 856 من 7481

کتاب: نماز کے احکام ومسائل

اذان کی فضیلت اور شیطان کا اس کو سنتے ہی بھاگ کھڑے ہونا

856 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ، قَالَ إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ - حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ أَحَالَ لَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَ صَوْتَهُ. فَإِذَا سَكَتَ رَجَعَ فَوَسْوَسَ فَإِذَا سَمِعَ الْإِقَامَةَ ذَهَبَ حَتَّى لَا يَسْمَعَ صَوْتَهُ فَإِذَا سَكَتَ رَجَعَ فَوَسْوَسَ»

۔ اعمش نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ﷜ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: شیطان جب نماز کے لیے پکار (کی آواز) سنتا ہے تو گوز مارتا ہوا بھاگتا ہے تاکہ مؤذن کی آواز نہ سن سکے، پھر جب مؤذن خاموش ہو جاتا ہے تو واپس آ تا ہے اور (نمازیوں کے دلوں میں) وسوسہ پیدا ےکرتا ہے، پھر جب اقامت سنتا ہے تو چلا جاتا ہے تاکہ اس کی آواز نہ سنے، پھر جب وہ خاموش ہو جاتا ہے تو واپس آتا ہے اور (لوگوں کے دلوں میں) وسوسہ ڈالتا ہے۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت