فهرس الكتاب

الصفحة 937 من 7481

کتاب: نماز کے احکام ومسائل

۔ جب امام کو مرض، سفر یا کسی اور وجہ سے عذر پیش آ جائے تو لوگوں میں سے کسی کو نماز پڑھانے کے لیے اپنا جانشیں(خلیفہ)مقرر کرنا ا

937 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، - وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ -، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ:"أَوَّلُ مَا اشْتَكَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ فَاسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِهَا وَأَذِنَّ لَهُ قَالَتْ: فَخَرَجَ وَيَدٌ لَهُ عَلَى الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ وَيَدٌ لَهُ عَلَى رَجُلٍ آخَرَ، وَهُوَ يَخُطُّ بِرِجْلَيْهِ فِي الْأَرْضِ"فَقَالَ عُبَيْدُ اللهِ: فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ: «أَتَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ هُوَ عَلِيٌّ»

معمر نے بیان کیا کہ زہری نے کہا: مجھے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ نے خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے خبر کہ رسول اللہﷺ کی بیماری کا آغاز میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے ہوا، آپ نے اپنی بیویوں سے اجازت مانگی کہ آپ کی تیمار داری میرے گھر میں کی جائے، انہوں نے اجازت دے دی۔ (عائشہ رضی اللہ عنہا نے ) فرمایا: آپ اس طرح نکلے کہ آپ کا ایک ہاتھ فضل بن عباس﷜ (کے کندھے) پر اور دوسرا ہاتھ ایک دوسرے آدمی پر تھا اور (نقاہت کی وجہ سے) آپ اپنے باؤں سے زمین پر لکیر بناتے جا رہے تھے۔ عبید اللہ نے بیان کیا کہ میں نے یہ حدیث ابن عباس﷜ کو سنائی تو انہوں نے کہا: کیا تم جانتے ہو وہ آدمی، جس کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نام نہیں لیا، کون تھے؟ وہ علی ﷜ تھا

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت