938 حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: ابْنُ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: «لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي، فَأَذِنَّ لَهُ فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ تَخُطُّ رِجْلَاهُ فِي الْأَرْضِ، بَيْنَ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَبَيْنَ رَجُلٍ آخَرَ» قَالَ عُبَيْدُ اللهِ: فَأَخْبَرْتُ عَبْدَ اللهِ بِالَّذِي قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقَالَ لِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ: «هَلْ تَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الْآخَرُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ؟» قَالَ: قُلْتُ: لَا. قَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ: «هُوَ عَلِيٌّ»
عقیل بن خالد نے کہا: ابن شہاب (زہری) نے کہا: مجھے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود نے خبر دی کہ رسول اللہﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب رسول اللہﷺ کی بیماری شدت اختیار کر گئی اور آپ کی تکلیف میں اضافہ ہو گیا تو آپ نے اپنی بیویوں سے اجازت طلب کی کہ ان کی تیمار داری میرے گھر میں ہو، انہوں نے اجازت دے دی، پھر آپ دو آدمیوں کے درمیان (ان کا سہارا لے کر) نکلے، آپ کے دونوں پاؤں زمین پر لکیر بناتے جا رہے تھے (اور آپ) عباس بن عبد المطلب اور ایک دوسرے آدمی کے درمیان تھے۔
(حدیث کے راوی) عبید اللہ نے کہا: عائشہ رضی اللہ عنہا نے جو کچھ کہا تھا، میں نے اس کا تذکرہ عبد اللہ (بن عباس) رضی اللہ عنہما سے کیا تو انہوں نے مجھ سے کہا: کیا تم جانتے ہو وہ آدمی کون تھا جس کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نام نہیں لیا؟ انہوں نے کہا: میں نے کہا: نہیں۔ حضرت ابن عباس نے کہا: وہ حضرت علی بن ابی طالب تھے۔