فهرس الكتاب

الصفحة 117 من 267

'' یَعْنِي ہُوَ الْأَوَّلُ قَبْلَ کُلِّ شَیْئٍ بِلَا ابْتِدَائٍ ، بَلْ کَانَ ہُوَ ، وَلَمْ یَکُنْ شَيْئٌ مَوْجُوْدًا۔

وَالْآخِرُ بَعْدَ فَنَائِ کُلِّ شَیْئٍ بِلَا اِنْتِہَائٍ ، تَفْنَی الْأَشْیَائُ وَیَبْقٰی ہُوَ۔'' [1]

[یعنی وہ بلا ابتدا[2] ہر چیز سے پہلے ہیں، بلکہ وہ تو تب سے ہیں، جب کوئی چیز بھی موجود نہیں تھی۔

اور وہ ہر چیز کے فنا ہونے کے بعد بھی ( رہنے والے) ہیں ، ان کا ناپید ہونا نہیں، تمام چیزیں نابود ہو جائیں گی اور وہ ہی باقی رہیں گے۔]

ii: شیخ ابن عاشور رقم طراز ہیں:

''وَاعْلَمْ أَنَّ فِيْ قَوْلِہٖ: {ہُوَ الْاَوَّلُ وَالْآخِرُ} دَلَالَۃَ قَصْرٍ مِّنْ طَرِیْقِ تَعْرِیْفِ جُزْأَيْ الْجُمْلَۃِ۔'' [3]

[''جان لیجئے، کہ بلاشبہ ارشادِ باری تعالیٰ {ہُوَ الْاَوَّلُ وَالْآخِرُ} ، جملے کے دونوں اجزاء کے (اسمائے) معرفہ ہونے کی بنا پر، حصر پر دلالت کرتا ہے۔'']

یعنی جملے {ہُوَ الْاَوَّلُ} میں {ہُوَ} معرفہ ہے۔ اور جب جملے کے دونوں اجزاء (مبتدا اور خبر) اسمائے معرفہ ہوں، تو جملہ حصر پر دلالت کرتا ہے۔ اسی طرح ترجمہ یہ ہو گا:

[2] یعنی اللّٰه تعالیٰ کے موجود ہونے کے لیے کوئی وقتِ آغاز نہیں ، کہ وہ اس سے پہلے نہیں تھے۔

[3] تفسیر التحریر والتنویر ۲۷؍۳۶۱۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت