فهرس الكتاب

الصفحة 248 من 267

[وہ ہی بہت بلند اور بہت بڑے ہیں۔]

یا معنیٰ یوں بیان کیا جائے گا:

[وہ بلند و بالا ہونے میں منفرد، عالی مقام و مرتبہ والے ہونے میں یکتا ہیں] ۔

دوسرے الفاظ میں:

یہ جملہ درجِ ذیل دو معانی پر مشتمل ہے:

ا: اللہ تعالیٰ کے بہت بلند اور بہت بڑے ہونے کا ثبوت۔

ب: اللہ تعالیٰ کے سوا سب سے ایسی بلندی اور ایسی عظمت کی نفی۔

سو کوئی [اَلْعَلِيُّ] نہیں، مگر اللہ تعالیٰ اور کوئی [الْعَظِیْمُ] نہیں، مگر اللہ تعالیٰ۔

[اَلْعَلِيُّ] سے مراد [عُلُوٌّ مُّطْلَقٌ] والے یعنی پوری کائنات سے بلند و بالا۔ [عُلُوٌّ مُّقَیَّدٌ] [یعنی مخلوق میں سے ایک دوسرے سے بلند ہونا] انسانوں کے لیے بھی ہوتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

{وَ لَا تَہِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ} [1]

[اور تم کمزور نہ بنو اور غم نہ کرو اور تم ہی سب سے بلند ہو۔]

[یعنی تم کافروں سے بلند و بالا ہو، یہ مراد نہیں، کہ تم ہر چیز سے بلند و بالا ہو] ،

کیونکہ [عُلُوٌّ مُّطْلَقٌ] یعنی ہر چیز سے بلند و بالا ہونا، صرف اللہ جل جلالہ کے لیے ہے، کیونکہ وہ [فَوْقَ کُلِّ شَيْئٍ] [ہر چیز کے اوپر ہیں] [2]

یہی بات [اَلْعَظِیْمُ] میں ہے، کہ وہ عظمت مُطْلَق[یعنی کائنات کی ہر چیز

[2] ملاحظہ ہو: تفسیر آیۃ الکرسي ص ۲۳۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت