کی طرف اس کا وسیلہ لے تاکہ اسے اپنی دعاء کے قبولیت کی زیادہ سے زیادہ امید ہو۔
وسیلہ کی اس قسم کی مشروعیت کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:
{الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاْ إِنَّنَاْ آمَنَّاْ فَاغْفِرْلَنَاْ ذُنُوْبَنَاْ وَقِنَاْ عَذَاْبَ النَّاْرِ} [1]
جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب!بے شک ہم ایمان لائے اس لئے ہمارے گناہوں کو معاف فرما،اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا۔
نیز ارشاد باری ہے:
{ رَبَّنَاْ آمَنَّاْ بِمَاْ أَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَاْ الرَّسُوْلَ فَاکْتُبْنَاْ مَعَ الشَّاْھِدِیْنَ} [2]
اے ہمارے رب!ہم تیری اتاری ہوئی وحی پر ایمان لائے ،اور ہم نے تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع کیا ،پس تو ہمیں گواہوں میں لکھ دے۔
[2] سورۃ آل عمران:۵۳۔