طویل ہے اور اسی میں ہے کہ آپ نے مروہ پر اسی طرح کیا جس طرح صفا پر کیا تھا۔ [1]
حضرت جابر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بیان میں فرماتے ہیں: ''پھر آپ قصواء (آپ کی ایک اونٹنی کا نام) پر سوار ہوئے یہاں تک کہ مشعر حرام تشریف لائے،پھر قبلہ رو ہوئے،اللہ سے دعاء کی،اس کی بڑائی بیان کی،لا الہ الا اللہ کہا،اور اس کی وحدانیت کا اقرار کیا،اور بہت دیر تک کھڑے رہے،یہاں تک کہ خوب روشنی ہو گئی،پھر سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی نکل پڑے'' حدیث طویل ہے۔۔۔۔ [2]
۵- عرفہ کے دن عرفات کے میدان میں حاجی کا دعاء کرنا: [3]
[2] مسلم ۲/۸۹۱۔
[3] کتاب کا صفحہ: (۱۵۹) دیکھئے۔