ڈھانپ لیتے ہیں ،اور ان پر رحمت (الٰہی) سایہ فگن ہوتی ہے،اور ان پر سکینت و اطمینان نازل ہوتا ہے،اور اللہ عز وجل ان کا تذکرہ ان لوگوں میں کرتا ہے جو اس کے پاس ہیں (یعنی فرشتے) ۔
''إذا سمعتم صیاح الدیکۃ فاسألوا اللّٰہ من فضلہ،فإنھا رأت ملکًا،وإذا سمعتم نھیق الحمار فتعوذوا باللّٰہ من الشیطان،فإنہ رأی شیطانًا'' [1]
جب مرغ کی بانگ سنو تو اللہ سے اس کا فضل مانگو،کیوں کہ اس نے فرشتہ دیکھا ہے،اور جب گدھے کی آواز سنو تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو،کیوں کہ اس نے شیطان دیکھا ہے۔
۳۳-اللہ سے دل لگے رہنے اور شدید اخلاص کی حالت میں:
اس کی دلیلوں میں سے اہل چٹان (غار والوں) کا واقعہ ہے ۔ [2]
[2] اس حدیث کی تخریج گزر چکی ہے،نیز دیکھئے: بخاری ۴/۳۷،ومسلم ۴/۲۰۹۹۔