جو بھی مسلمان اللہ کاذکر کرکے پاک حالت میں رات گزارتا ہے،پھررات میں بیدار ہو کر اللہ سے دنیا و آخرت کی خیر و بھلائی کا سوال کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اس کا مطلوب عطا فرمادیتا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{وَذَا النُّوْنِ إِذْ ذَّھَبَ مُغَاْضِبًا فَظَنَّ أَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْہِ فَنَاْدَی فِي الظُّلُمَاْتِ أَنْ لَّاْ إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ سُبْحَاْنَکَ إِنِّيْ کُنْتُ مِنَ الظَّاْلِمِیْنَ،فَاسْتَجَبْنَاْ لَہُ وَنَجَّیْنَاْہُ مِنَ الْغَمِّ وَکَذَلِکَ نُنْجِي الْمُؤْمِنِیْنَ } [1]
اور مچھلی والے (یونس علیہ السلام) کو یاد کرو،جب وہ غصہ سے نکل کر گئے اور سوچا کہ ہم انہیں پکڑ نہ سکیں گے،بالآخر وہ اندھیروں کے اندر سے پکار اٹھے کہ ''الٰہی تیرے سوا کوئی معبود نہیں ،تو پاک ہے ،بیشک میں ظالموں میں سے ہوگیا''،تو ہم نے ان کی پکار سن لی،اور انہیں غم