بے شک اللہ تعالیٰ نے آدم،نوح،آل ابراہیم،اور آل عمران کو تمام جہان والوں پر منتخب فر مالیا۔
نیز اللہ تعالیٰ نے انہیں خصوصی نوازش سے سرفراز فرمایا،ارشاد ہے:
{ثُمَّ اجْتَبَاْہُ رَبُّہُ فَتَاْبَ عَلَیْہِ وَھَدَیٰ} [1]
پھر ان کے رب نے انہیں نوازا،ان کی توبہ قبول فرمائی اور رہنمائی کی۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{وَلَقَدْ نَاْدَاْنَاْ نُوْحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجِیْبُوْنَ،وَنَجَّیْنَاْہُ وَأَھْلَہُ مِنَ الْکَرْبِ الْعَظِیْمِ} [2]
اور ہمیں نوح علیہ السلام نے پکارا،تو ہم نہایت اچھے قبول کرنے والے تھے،اور ہم نے انہیں اور ان کے خاندان والوں کو بہت بڑی مصیبت سے نجات دی۔
[2] سورۃ الصافات: ۷۵،۷۶۔