''یستجاب لأحدکم ما لم یعجل،فیقول: قد دعوت فلم یستجب لي'' [1]
تم میں سے کسی کی بھی دعاء اس وقت تک قبول ہوتی رہتی ہے جب تک وہ جلد بازی کرتے ہوئے یہ نہ کہہ دے کہ 'میں نے دعاء کی تو میری دعاء قبول نہ ہوئی'۔
''وسیلۃ'' کے لغوی معنیٰ قربت اور اطاعت کے ہیں ،نیز جس کے ذریعہ کسی چیز تک پہنچا جائے اور قریب ہویا جائے (وہ بھی وسیلہ کہلاتا ہے) کہا جاتا ہے: ''وَسَّلَ فلان إلی اللّٰہ توسیلًا'' فلاں نے اللہ کی جانب وسیلہ قائم کیا،یعنی ایساعمل کیا جس کے ذریعہ اللہ سے قریب ہوگیا،نیز کہا جاتا ہے: ''وسل فلان إلی اللّٰہ تعالیٰ بالعمل یسل وسلًا وتوسلًا و توسیلًا'' یعنی اللہ کی طرف راغب ہوا اور اس کی قربت اختیار کی،یعنی ایسا عمل کیا جس کے ذریعہ اللہ سے قریب ہوا ۔ [2]
[2] دیکھئے: النھایۃ في غریب الحدیث لابن الأثیر،۵/۱۸۵،والقاموس المحیط،ص:۱۳۷۹ ،والمصباح المنیر،ص:۶۶۰۔